About

Administration

Academics

Admissions

Campuses

Campus Life

Quick Links

Faculty members of IUB convened to scrutinize the recent decision by the SBP to uphold the key policy rate at 22 percent

PRO No. 106/24 dated 27.03.2024
Directorate of Public Relations the Islamia University of Bahawalpur
Faculty members at the Department of Economics the Islamia University of Bahawalpur, convened to scrutinize the recent decision by the State Bank of Pakistan to uphold the key policy rate at 22 percent. Delving into the implications across various sectors, scholars highlighted multifaceted concerns. Dr. Abid Rashid Gill, Chairman of the Department, underscored the necessity of aligning fiscal and monetary policies to navigate inflationary pressures effectively, focusing on enhancing budgetary discipline. Meanwhile, Dr. Muhammad Atif Nawaz expressed apprehension over the adverse impact of high-interest rates on the real sector, positing that reducing the policy rate could stimulate investment and spur economic growth. Additionally, Dr. Ishtiaq Ahmed emphasized the challenges posed by a persistently high policy rate on the external sector, stressing the need for a balanced approach to encourage investment opportunities. Dr. Maryam A. Soharwardi echoed concerns about the potential contractionary effects of a high-interest rate environment, urging policymakers to consider the ramifications on the fiscal sector and adopt a nuanced strategy to promote economic stability. Furthermore, Mr. Altaf Hussain highlighted the intricacies of navigating the interplay between monetary policy and credit dynamics, underscoring the importance of fostering an environment conducive to economic growth. Dr. Rashid Sattar raised caution about the effectiveness of a high-interest rate strategy in controlling inflation, pointing out potential challenges in the money and credit sector. The discussion underscored the need for policymakers to balance inflation control with measures to stimulate economic activity, fostering a conducive environment for sustainable growth across industries.


abid R gill SBP meeting (eng)

 

پی آر او نمبر 106/24
مؤرخہ 27.03.2024 
ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور
بہاول پو ر () ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے فیکلٹی ممبران نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے حال ہی میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے مطالعاتی اجلاس منعقد کیا۔ اس فیصلے کے مضمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسکالرز نے کثیر جہتی معاشی خدشات کو اجاگر کیا۔ چیئرمین شعبہ ڈاکٹر عابد رشید گل نے بجٹ میں مہنگائی کے دباؤ کو مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مالیاتی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر محمد عاطف نواز نے اونچے درجے کے شرح سود کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں کمی سرمایہ کاری کو تحریک دے سکتی ہے اور معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد نے سرمایہ کاری کے مواقع کی حوصلہ افزائی کے لیے متوازن نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بیرونی شعبے پر مسلسل بلند سود کی شرح سے درپیش چیلنجوں کا احاطہ کیا۔ ڈاکٹر مریم اے سہروردی نے بلند شرح سود کے باعث معیشت کے سکڑنے کے اندیشے کی پیش گوئی کرتے ہوئے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ مالیاتی شعبے پر پڑنے والے اثرات پر غور کریں اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے متوازن حکمت عملی اپنائیں۔ فیکلٹی ممبر الطاف حسین نے معاشی نمو کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مانیٹری پالیسی اور کریڈٹ ڈائنامکس کے درمیان تعامل کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر راشد ستار نے زر اور قرض کے شعبے میں ممکنہ چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اعلیٰ شرح سود کی حکمت عملی کے اثرات کے بارے میں گفتگو کی۔ پالیسی سازوں پر زور دیا گیا کہ اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے اقدامات کے ساتھ افراط زر پر قابو پانے کے لیے معاشی اعشاریوں میں توازن قائم کریں، جس سے صنعتوں میں پائیدار ترقی کے لیے سازگار ماحول میسر آے گا اور معیشت کا پہیہ با آسانی چل پڑے گا۔


abid R gill SBP meeting (urdu)

© 2023 The Islamia University of Bahawalpur iub.edu.pk.