About

Administration

Academics

Admissions

Campuses

Campus Life

Publications

Quick Links

An article on the First Sheikh-ul-Jamiah , Jamia Abbasia, Hazrat Maulana Ghulam Muhammad Ghotvi (R.A.)

کھجوروں کے جُھنڈ سے معروف گاؤں “گھوٹہ” کی منفرد علمی داستان

اُن کا اصل نام غلام محمد تھا ۔ وہ ۱۸۸۵ ء میں موضع گمرالی کلاں ( ضلع گجرات) کے ایک جٹ زمیندار گہنے خان کے گھر پیدا ہوئے ۔ اُس دور کے دستور کے مطابق انہوں نے کم عمری ہی میں حصول علم کیلئے مختلف علاقوں میں اقامت اختیار کی ۔ اپنے زمانہ طالب علمی کی سفری حالت کے ایک مرحلے میں وہ ملتان شہر کی نواح میں واقع ایک قدیم گاؤں محمد پور گھوٹہ کے ایک مدرسے میں بھی آن مقیم ہوئے۔ گوکہ گھوٹہ میں اُن کے قیام کا دورانیہ صحت کے ساتھ معلوم نہیں تاہم ان کے تمام سوانحی حوالہ جات اس بات پر متفق ہیں کہ اُن کا اس گاؤں سے ایسا قلبی اور روحانی تعلق جُڑا کہ انہوں نے اپنے آپکو، اپنی جنم بھومی “گمرالی” کی نسبت سے “غلام محمد گمرالوی” کہلوانے کی بجائے بستی “گھوٹہ” کی نسبت سے “غلام محمد گھوٹوی“ کہلوانا پسند کیا ۔اب کیونکہ دیگر مروجہ علوم کے مقابلے میں انہیں علم الحدیث پر خاص دسترس حاصل تھی تو اُن کے ہم عصر علماء انہیں “محدث گھوٹوی” کے لقب سے بھی یاد کرنے لگے ۔

ریاستِ بہاولپور کے فرمانروا نواب سر صادق محمد خان عباسی خامس نے ۱۹۲۵ء میں جامعہ عباسیہ کی بنیاد رکھی تو انہی غلام محمد گھوٹوی کو “شیخ الجامعہ” کی ذمہ داری سنبھالنے کی درخواست کی گئی جسے پہلے پہل انہوں نے رد کردیا ۔ ان کا موقف تھا کہ دینی علوم کی تدریس کے لیے سرکاری ملازمت اختیار کرنا مناسب نہیں۔ تاہم جب ریاستِ بہاولپور کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ جامعہ عباسیہ ایک اسلامی ریاست کا ادارہ ہے، اس کے اخراجات محکمہ اوقاف سے پورے ہوتے ہیں اور اس کا مقصد خالصتاً علومِ اسلامیہ کی خدمت ہے تو اُنہوں نے اِس وضاحت کو تسلیم کرتے ہوئے بہاولپور آنے پر آمادگی ظاہر کردی اور یوں وہ جامعہ عباسیہ بہاولپور کے پہلے “شیخ الجامعہ” مقرر ہوگئے۔

معاصرین نے غلام محمد گھوٹوی کے حلیے کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ تقریباً ساڑھے چھ فٹ قد کے دراز قامت، وجیہہ الشکل اور بارعب شخصیت کے مالک شخص تھے۔ سفید عمامہ، سفید لنگی اور سرمئی رنگ کی بالاپوش ان کی نمایاں شناخت تھی۔ وقار، سادگی اور علمی ہیبت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔

غلام محمد گھوٹوی کا “شیخ الجامعہ” مقرر ہونا محض ایک ادارے کے سربراہ کے طور پر ایک مولانا یا عالمِ دین کی تقرری نہیں تھی بلکہ یہ جنوبی پنجاب کی علمی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔اُس زمانے کے سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو اِس کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ۱۹۲۵ء میں ملتان براہِ راست برطانوی ہند کے صوبۂ پنجاب کا حصہ تھا۔ یہاں ملتان ڈویژن کا کمشنر اور ضلع ملتان کا ڈپٹی کمشنر برطانوی حکومت کی نمائندگی کرتے تھے۔ اِس کے برعکس بہاولپور ایک خودمختار ریاست تھی، جس کے فرمانروا نواب سر صادق محمد خان عباسی خامس تھے۔ اگرچہ ریاست بہاولپور ، برطانوی تاج کی بالادستی کو تسلیم کرتی تھی، لیکن داخلی نظم و نسق، تعلیم، اوقاف، عدلیہ اور مالیات میں اِسے مکمل خودمختاری حاصل تھی۔

ملتان اور بہاولپور کے اِن دونوں خطوں کے درمیان دریائے ستلج بہتا تھا۔ یہ صرف ایک دریا نہیں تھا بلکہ دو مختلف سیاسی اور انتظامی نظاموں کے درمیان حدِ فاصل بھی تھا۔ ایک طرف برطانوی پنجاب تھا اور دوسری طرف ریاستِ بہاولپور۔اسی لیے مولانا غلام محمد محدث گھوٹویؒ کی بہاولپور آمد کو صرف ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ انگریزوں کے زیرِانتظام علاقے کے دینی مرکز سے اُٹھ کر ایک خودمختار اسلامی ریاست کے پہلے اعلیٰ ترین سرکاری دینی تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھنے یہاں پہنچے تھے۔

جامعہ عباسیہ کے قیام کا مقصد علومِ اسلامیہ کی اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینا تھا۔غلام محمد گھوٹوی ۱۹۲۵ء سے لیکر ۱۹۴۷ ء تک اس جامع کے مدارِکُل رہے ۔ اُن کی مسلمہ علمی حیثیت اور مقام و مرتبے کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۹ مارچ ۱۹۴۸ء کے دن، جب اُن کا جنازہ اُٹھایا گیا، ریاستِ بہاولپور میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ۔

۱۹۷۵ء میں جامعہ عباسیہ کے دائرۂ کار کو وسعت دیتے ہوئے جب اِسے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا درجہ دیا گیا اور یہاں اسلامی علوم کے ساتھ سماجی، سائنسی اور دیگر جدید علوم کی تدریس بھی شروع ہوئی تو اِس جدید شکل کی یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس کا ایک ہال غلام محمد گھوٹوی کی علمی خدمات کے اعتراف میں اُن کے نامِ نامی سے موسوم کیا گیا ۔ اور یہیں سے اُس شاندار علمی روایت نے جنم لیا جو آج بھی “غلام محمد گھوٹوی ہال” کی صورت میں زندہ و جاوید ہے۔

۱۹۸۰ء میں فرانس میں مقیم ممتاز اسلامی مفکر، محقق، ماہرِ قانون اور مؤرخ ڈاکٹر محمد حمید اللہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی دعوت پر پاکستان تشریف لائے جہاں انہوں نے بارہ علمی خطبات دیے۔ “۸ مارچ تا ۲۰ مارچ، سوائے ایک جمعہ کے جو درمیان میں آیا، ہر روز یونیورسٹی کے غلام محمد گھوٹوی ہال میں عصر اور مغرب کے درمیان اردو زبان میں ایک لیکچر ہوتا تھا، جس کے بعد سوال و جواب کی نشست منعقد ہوتی تھی۔” (بحوالہ: خطباتِ بہاولپور، ص ۱۳) ان خطبات کو آڈیو ٹیپس پر محفوظ کیا گیا اور بعد ازاں “خطباتِ بہاولپور” کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ بعد میں اسی کتاب کا انگریزی ترجمہ “دی ایمرجنس آف اسلام” کے عنوان سے بھی منظرِ عام پر آیا۔

خطباتِ بہاولپور کی تمہید سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی مجلسِ انتظامیہ نے “سیرت چئیر” کی مستقل سربراہی کی خصوصی دعوت دی تھی۔ انہوں نے فرانس میں اپنی علمی ذمہ داریوں اور وہاں کے قانونی تقاضوں کے باعث طویل قیام سے معذرت کی، تاہم انہوں نے مارچ ۱۹۸۰ء میں بہاولپور آنے پر آمادگی ظاہر کی۔ (بحوالہ: خطباتِ بہاولپور، ص ۱۱، ۱۲)

“خطبات بہاولپور” نے عالمگیر شہرت پائی ۔انگریزی کے علاوہ اس کتاب کے دیگر زبانوں میں بھی تراجم ہوئے ۔ بلاشبہ اس فقید المثال کتاب کو اب تک لاکھوں کروڑوں لوگ پڑھ چکے ہیں ۔ شاید ہی دنیا کی کوئی ایسی لائبریری ہو جس میں یہ کتاب موجود نہ ہو۔

“خطبات بہاولپور” میں مذکور “غلام محمد گھوٹوی ہال” نے قریب قریب ہر قاری کے ذہن میں یہ سوال ڈالا کہ آخر یہ غلام محمد گھوٹوی کون تھے کہ اس یونیورسٹی نے اپنے مرکزی ہال کو اُن کے نام سے منسوب کیا ہے ؟ اور “گھوٹوی” جیسی غیر مانوس نسبت کہاں سے آئی ہوگی؟

غلام محمد گھوٹویؒ نے محمد پور گھوٹہ کے جس مدرسے سے تعلیم حاصل کی، مختلف تذکرہ نگار اُس کا نام “دارالعلوم محمدیہ” لکھتے ہیں۔ اِس درس گاہ میں حضرت علامہ حافظ مولوی محمد جمال الدین عربی زبان اور اِس میں مدون علومِ اسلامیہ کی تدریس فرماتے تھے۔ اسی ادارے میں حضرت مولانا عبیداللہ ملتانی اور حضرت مولانا غلام مرتضیٰ چیلاوانی (جو حضرت مولانا خواجہ خدابخش خیرپوریؒ کے ممتاز شاگرد تھے) جیسے جید علماء بھی تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس اعتبار سے دارالعلوم محمدیہ اپنے عہد کا ایک ایسا ممتاز علمی مرکز تھا، جہاں سے غلام محمد گھوٹوی سمیت بے شمار اہلِ علم نے فیض حاصل کیا۔

یوں “خطباتِ بہاولپور” سے عالمِ اسلام میں متعارف ہونے والی اس منفرد علمی داستان کی جڑیں ملتان کے قریب واقع گاؤں محمد پور گھوٹہ سے جا ملتی ہیں، جو آج بھی ملتان کینٹ کے مغرب میں تقریباً پانچ سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک تاریخی بستی کے طور پر آباد چلا آرہا ہے۔ یہی وہ گاؤں ہے جہاں سے ایک ایسی علمی روایت نے جنم لیا جس کی بازگشت بعد میں جامعہ عباسیہ بہاولپور اور پھر ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے شہرۂ آفاق “خطباتِ بہاولپور” تک سنائی دیتی ہے۔

اس گاؤں کی وجۂ تسمیہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ پنجاب ڈسٹرکٹ گزٹیئر، ملتان (۱۹۲۳۔۲۴ء) میں محمد پور گھوٹہ کے نام کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے:

“The village is shut in by date trees and is therefore hot (ghut).”

(ترجمہ:) “یہ گاؤں کھجوروں کے گھنے جھنڈ میں گھرا ہے جن کی گھٹن کی وجہ سے یہاں گرمی ہوتی ہے “

بحوالہ: پنجاب ڈسٹرکٹ گزٹیئر، ملتان، ۱۹۲۳۔۲۴ء، ضمیمہ چہارم، صفحہ xiv)

یعنی محمد پور گھوٹہ کبھی ایسا گاؤں تھا جو کھجوروں کے گھنے جھنڈ میں اس طرح گھرا ہوا تھا کہ وہاں حبس اور گھٹن کی کیفیت رہتی تھی۔ مقامی بولی میں اسی کیفیت کو “گُھٹ” کہا جاتا تھا، جس سے غالباً “گھوٹہ” (یعنی ایسا مقام جہاں گھٹن محسوس ہو) کا نام وجود میں آیا۔ اسی مناسبت سے اس بستی کو محمد پور گھوٹہ کہا جانے لگا۔

یہ وضاحت بعد میں مقامی تاریخ کی متعدد کتابوں میں مذکور اِس روایت سے بھی مطابقت رکھتی ہے کہ اِس علاقے میں کھجوروں کے درخت اس قدر گھنے تھے کہ ہوا کا گزر محدود ہو جاتا تھا اور اسی کیفیت نے اس بستی کو اس کا منفرد نام عطا کیا۔

محمد پور گھوٹہ کے جغرافیائی اور تاریخی پس منظر کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اِس کے پہلو میں واقع قدیم بستی “قاسم بیلا” بھی صدیوں سے تاریخی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی چلی آرہی ہے۔ مقامی روایات کے مطابق سندھ فتح کرنے کے بعد ملتان کی مہم کے دوران محمد بن قاسم نے اپنے لشکر کے ساتھ اسی مقام پر پڑاؤ ڈالا، جس کی نسبت سے یہ علاقہ “قاسم بیلا” ( قاسم کا جنگل) کہلایا۔ اِنہی روایات کا ایک تسلسل یہ بھی بیان کرتا ہے کہ عرب لشکر اپنے ساتھ ہزاروں اونٹوں پر جو کھانے کا سامان لایا تھا ،اُس کا بڑا حصہ کھجوروں پر مشتمل تھا۔ استعمال کے بعد پھینکی جانے والی ان کھجوروں کی گٹھلیاں وقت گزرنے کے ساتھ تناور درختوں میں تبدیل ہوئیں اور بعد ازاں مقامی آبادی نے اِنہی کھجوروں کو اپنے کھیتوں اور بستیوں کے گرد پھیلایا۔ یوں ملتان کے اس خطے میں کھجوروں کے وسیع جُھنڈ وجود میں آئے، جن کی یاد آج بھی اس علاقے کی شناخت کا حصہ ہے۔

یوں تاریخ کا ایک نہایت دل چسپ تسلسل سامنے آتا ہے۔ کھجوروں کے گھنے جھنڈ میں گھرا ایک خاموش گاؤں… اس گاؤں میں قائم ایک قدیم دارالعلوم… اس دارالعلوم کا ایک ہونہار طالب علم… وہی طالب علم آگے چل کر ریاستِ بہاولپور کی نو قائم جامعہ عباسیہ کا پہلا شیخ الجامعہ بنتا ہے… اور پھر تقریباً نصف صدی بعد اسی کے نام سے منسوب “غلام محمد گھوٹوی ہال” میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ اپنے شہرۂ آفاق “خطباتِ بہاولپور” پیش کرتے ہیں، جو بعد ازاں دنیا بھر کے علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل کرتے ہیں۔

غلام محمد محدث گھوٹویؒ کے وصال کے بعد بھی جامعہ اسلامیہ بہاولپور نے ان کی یاد کو صرف تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اپنے مرکزی ہال کو ان کے نام سے منسوب کرکے اس علمی روایت کو ادارہ جاتی حافظے کا حصہ بنا دیا۔

اس تناظر میں غلام محمد گھوٹوی ہال محض ایک عمارت کا نام نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی تقریباً ایک صدی پر محیط علمی روایت کی علامت بن جاتا ہے۔ اس روایت کا آغاز ملتان کے قریب واقع خاموش بستی محمد پور گھوٹہ سے ہوتا ہے، جہاں قائم ایک دینی درس گاہ نے ایسے جلیل القدر عالم کو پروان چڑھایا جس نے جامعہ عباسیہ کی علمی بنیادوں کو استحکام بخشا۔ بعدازاں اسی عالم کے نام سے منسوب ہال میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے تاریخی خطبات منعقد ہوئے اور یوں ایک چھوٹے سے گاؤں کی نسبت عالمی علمی ادب کا حصہ بن گئی۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کے بعض روشن ابواب بڑے شہروں، عظیم الشان محلات یا شاہی درباروں میں نہیں بلکہ ایسے خاموش دیہات میں رقم ہوتے ہیں جن کا نام بظاہر نقشۂ عالم پر نمایاں نہیں ہوتا، مگر ان کی علمی میراث صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔ محمد پور گھوٹہ اور غلام محمد گھوٹوی ہال اسی تاریخی اور علمی تسلسل کی دو ایسی نمایاں کڑیاں ہیں جو اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ علم کی روشنی اکثر خاموش بستیوں سے پھوٹتی ہے، مگر اس کی کرنیں پوری دنیا کو منور کر دیتی ہیں۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان

 

 

 

750229869_1490893149739883_5870839065028093998_n749629673_1490892939739904_5560469490307455425_n749259060_1490893106406554_116168683081111788_n748648655_1490892959739902_1286521958634808613_n747723640_1490893113073220_805924738892660268_n

© 2025 The Islamia University of Bahawalpur iub.edu.pk.