Latest News

A seminar on Azmat-E-Rasool held at IUB

پی آر او نمبر21/427، مورخہ 13.07.2021
پبلک ریلیشنز آفس، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور
قرأت اینڈ نعت سوسائٹی، اسلامیہ یونی ورسٹی آف بہاول پور کے زیر اہتمام ایک روزہ قومی سیرت سیمینار بعنوان ”عظمتِ ﷺ اور نوجوانان “، گھوٹوی ہال، عباسیہ کیمپس میں پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمٰن، ڈین فیکلٹی آف اسلامک لرننگ کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہوا۔اس موقع پر ڈائریکٹر ادارہ علوم اسلامی، پنجاب یونی ورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمدسعد صدیقی اور انچارج ریجنل دعوہ سنٹر، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد، کراچی کیمپس ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن نے بطور مہمانانِ اعزاز شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمدسعد صدیقی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ”اے ایمان والو“ سے مومنین کو خطاب کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ تمہارا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی کو معبود مانتا ہے۔ عموماً کسی بھی چیز کی پرستش کرنے والے اُس کی عبادت اُس کے خوف سے کرتے ہیں جیسے سورج اور آگ کو پوجنے والے اُن کے شر سے بچنے کے لیے ایسا کرتے ہیں، لیکن اہلِ ایمان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کے خوف سے ماورا ہوکر محض اُس کی محبت میں سرشار ہوکر اپنا معبود برحق مانتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺکو اپنا محبوب بنایا، آپﷺ ہی کے واسطے سے آپ کا ہر امتی اللہ کا محبوب ہے۔ حبِ رسولﷺ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کسی بھی معاملے میں اپنی رائے، سوچ، فکر، دانش اور بینش کو نبی اکرمﷺ کی رائے پر فوقیت نہ دیں۔ بظاہر تو کوئی بھی علی الاعلان یہ جسارت نہیں کرتا، لیکن لاجک، منطق، جدید تحقیق اور فلسفہ وغیرہ کی خوشنما تاویلات میں یہ جسارت کی جارہی ہے۔ حبِ رسول کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی ایمانی زندگی کی سانس یعنی عظمتِ رسول ﷺ کے پیش نظر اپنی خواہشات اور تمناؤں کو نبی اکرمﷺ کے احکامات کے تابع کردیں۔ حبِ رسول ﷺ یہ نہیں ہے کہ اگر کہیں گستاخی ہو تو اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے اور لوگوں کی ایذا رسانی کا باعث بنا جائے۔ ہمیں سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں اپنے جذبات کی آبیاری کرنی چاہیے۔ نبی اکرمﷺنے قریشِ مکہ جو آپ کے خلاف سازشیں کرتے تھے، ان کا تجارتی بائیکاٹ کرکے انہیں نقصان پہنچانے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ مہمانِ اعزاز ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن نے حضور ﷺ سے نسبت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لفظِ نعت، لفظِ سیرت اور لفظِ مدینہ کے اپنے اپنے عمومی معانی ہیں، لیکن جب ان کی نسبت رسول اکرمﷺ کی جانب ہوئی تو ان سے مراد صرف حضورﷺکی مدح سرائی، واقعات زندگی اور شہر یثرب ہی مراد لیا جانے لگا۔ اگر یہی نسبت کسی فرد کو حاصل ہوجائے تو اس کی عظمت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ نبی اکرمﷺ نے مکہ میں اسلام کی تقویت کے لیے ایک صفات کے دوافراد کو اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا۔ دونوں افراد اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں میں یکساں تھے، لیکن ان میں سے ایک یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نسبت جب آپﷺ سے ہوئی تو آج تک پوری دنیا میں بلاتفریق مسلم وغیر مسلم اُن کے نقشِ قدم کو معیار مانا جاتا ہے، جب کہ انہی کے مساوی شخص ابوجہل کو آج بھی برے تأثر اور القابات سے پکارا جاتا ہے۔آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں یہ نسبتِ رسولﷺ محض لفظوں میں حاصل ہے۔ ہمارے اعمال اس نسبت سے عاری ہیں۔ محبت کی دواقسام ہیں۔ ایک محبت فطری ہوتی ہے جیسے ایک ماں کی بچے کے لیے محبت، لیکن یہ کسی حادثاتی واقعے سے ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابل شعوری محبت ہے جو کسی نظریے پر قائم ہوتی ہے، یہ محبت دائمی ہوتی ہے۔ ایمان کے لیے ثانی الذکر محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے اپنی حیاتِ مبارکہ میں جوانوں کو بہت اہمیت دی۔ انہیں مختلف اہم مناصب پر فائز کیا۔ مثلاً حضرت معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنایا، حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کو متعدد بار مدینہ اور مسجد نبوی میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنے عمل میں لائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمٰن نے صدرِ مجلس کی جانب سے مہمانانِ گرامی کا بھرپور شکریہ ادا کیا اور سیمینار کے کامیاب انعقاد پر آئی یوبی قرأت اینڈ نعت سوسائٹی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کا ایک معیار مقرر کیا اور اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو پرکھا۔ ڈاکٹر محمد سعید شیخ، ایڈوائزر آئی یو بی قرأت اینڈ نعت سوسائٹی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے معزز مہمانانِ گرامی کو پر جوش خوش آمدید کہا۔ بعد ازاں ڈاکٹر محمد سعید شیخ نے آئی یو بی قرأت اینڈ نعت سوسائٹی کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے کہا کہ امسال سوسائٹی مختلف مواقع پر پانچ پروگرامز بشمول انٹر نیشنل ویبنار کا انعقاد کرچکی ہے۔

WhatsApp Image 2021-07-13 at 9.23.25 AM

WhatsApp Image 2021-07-13 at 9.23.25 AM (1)